ژولیدہ بیانی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - بیان کا الجھاؤ، گنجلک اظہار خیال یا تحریر۔ "ولیدہ بیانیوں اور کج بحثیوں کی عمریں تمام ہو گئیں۔" ( ١٩٨٦ء، فاران، کراچی، جولائی، ١٣ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ صفت 'ژولیدہ' کے ساتھ عربی اسم 'بیان' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب 'ژولیدہ بیانی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٣٨ء کو "ملفوظات اقبال" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بیان کا الجھاؤ، گنجلک اظہار خیال یا تحریر۔ "ولیدہ بیانیوں اور کج بحثیوں کی عمریں تمام ہو گئیں۔" ( ١٩٨٦ء، فاران، کراچی، جولائی، ١٣ )
جنس: مؤنث